Posted by: Editor | September 7, 2010

کوئٹه میں یوم القدس کے جلوس پر حملہ اور هزاره جوانوں کی غلطیاں

By Nisar Naiman (Dubai)
تین ستمبر 2010 کو کوئٹہ میں یوم القدس کی ریلی پر انسانیت دشمن عناصر کیطرف سے ایک اور خودکش حملہ ہوا اس کے بعد ایف سی نے مشتعل لوگوں پر فایرینگ بهی کی – اس خود کش حمله اور اس کے بعد فایرنگ سے 75 افراد شهید اور 200 سے زیاده زخمی ہوگئے۔ شهید اور زخمی ہونے والے اکثراً هزاره قوم سے تعلق رکهتے ہیں۔ طالبان اور اسلام دشمن عناصر نے قدس کے جلوس پر حملہ کرکے ایک بار پهر ثابت کردیا که وه اسلام، قرآن ، دین، مذهب، مسجد ، امام بارگاه، مکہ، مدینہ اور قدس یا بیت المقدس کے خلاف ہیں . وه تو شروع سے ہی اسلام کے خلاف تهے. اب بهی ان کا ٹارگٹ مسلمانوں کا خاتمہ کرنا ہے. لهاذا کوئٹہ میں جلوس پر حملہ ان اسلام دشمن عناصرکی وحشی گری اور سفاکی کا ایک اور ثبوت ہے.

یوم القدس کیا ہے

رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو ایران کے روحانی پیشوا آیت الله خمینی نے 1979 کوفلسطینیوں کی حمایت کیلئے یوم القدس کا نام دیا. اب هر سال  یہ دن  ایران اور کئی مسلمان ممالک میں ریلی نکال کر فلسطینیوں کے ساتھ یوم  یکجہتی کے طور پر منایا جاتاہے۔

کوئٹہ میں یوم القدس کیوں؟

بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ بیت المقدس سے هزاروں میل دور ہے. یہاں پرلاکهوں فرزندان توحید رہتے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے فلسطینیوں کی صدای مظلومیت نہیں سنی اور نہ ہی کسی نے محسوس کیا که فلسطین پر اسرائیل کی طرف سے ظلم ہورہاہے.اس کے علاوه پوری دنیا میں ایک ارب سے زیاده فلسطینیوں کے هم مذهب مسلمان ہیں جو 22 عرب ممالک اور کئی غیر عرب ملکوں میں رہتے ہیں ، ان میں سے بهی کسی نے فلسطینیوں کی حمایت میں ریلی نکالنا اور اسرائیل کے خلاف نعره بازی کو ضروری نہیں سمجها لیکن هزاره قوم کو اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں جلوس نکالنے کی ضرورت زیاده محسوس ہوئی.آخر هزاره قوم کیوں یوم القدس مناتی ہیں؟ کیوں هرسال ایرانی لیڈروں کی تصاویر کے بینرز اٹهاکر فلسطین کی آزادی اور اسرائیل – امریکہ کی بربادی کے نعرے لگاتی ہیں؟ یوم القدس منانے سے کیا ملتاہے؟ یہ دن ہمارے لئے کیوں اتنا اہم ہے؟ یوم القدس کی ریلی میں شرکت کرنے والوں سے اگر پوچها جائے تو ان میں سے اکثراً اسرائیل اور فلسطین  کے جغرافیائی نقشے کے بارے میں کچه نہیں جانتے ، بس اتنا جانتے ہیں کہ اسرائیل غاصب ہے لیکن ان کو غاصب کا مطلب تک نہیں پتہ. لهاذا ان سوالوں کو جواب دینے کیلئے اسرائیل اورفلسطین کے بارے میں ایک مختصر خاکہ پیش کرنا ضروری ہے.

پچهترلاکھ آبادی پرمشتمل اسرائیل ایک چهوٹی سی یهودی ریاست کا نام ہے جومشرقی وسطی میں فلسطین کی سرزمین پر 14 مئی 1948 کو معرض وجود میں آئی.اسرائیل کی تشکیل کے بعد فلسطین کے باقی مانده  سرزمین دو حصوں میں تقسیم ہوگئی. ایک حصہ مغربی کناره ہےجس پر اس وقت محمود عباس کی حکومت ہے ، دوسرا غزه پٹی ہےجہاں پر حماس کی مسلح دهڑوں کا کنٹرول ہے. بیت المقدس جو مسلمانوں کا قبله اول تها اس وقت اسرائیل کے قبضه میں ہے اور فلسطینی لوگ بیت المقدس اور فلسطین کے تمام مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل کے قبضہ سے آزاد کرنا چاہتے ہیں. لهذا یہ جهگڑا پچهلے 62 سال سے ان کے درمیان جاری ہے.

تاریخ بتاتی ہے کہ فلسطینی لوگ بہت عیاش اور خوشگذران تهے. یهودیوں کو ان کی کمزوری کا پته تها اس لئے انہوں نے اپنے لڑکیوں کے ذریعہ عربوں کو اپنے جال میں پهنسایا. عربوں نے یهودی لڑکیوں سے شادیان کیں- ان کی اولاد نے اپنی ما‎ؤں کیطرح یهودیت کو قبول کیا اور یوں یهودی آبادی بڑهتی گئی بالآخرعربوں کی تن پروری اور یهودیوں کی چالاکی کی وجه سے فلسطین کی سرزمین پر ایک یهودی ریاست معرض وجود میں آئی.

فلسطینی لوگ بهت متعصب ہیں. دبی میں ایک فلسطینی سے میں نے خود پوچها که کیا فلسطین میں بهی شیعه ہے تو اس نے جواب دیا لا الحمدلله. یعنی نہیں خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی بهی شیعه نہیں ہے. اب ایسے لوگ جو اپنی عیاشی اورکاہلی کی وجہ سے اپنے ملک کهو بیهٹے ہیں اور شیعیت کے بهی اتنا خلاف ہیں که فلسطین میں شیعہ نہ ہونے پر خدا کا شکر کرتے ہیں، کیا ان کی حمایت میں ریلی نکالنا اور اپنے جوانوں کی قربانی دینا عقلمندی هے؟ کیا ایک بیرونی طاقت کے کہنے پر سڑکوں پر نکلنا، ان کے مفادات کیلئے نعرے لگانا، ان کی تصاویر اور بینرز اٹهانا اور ان کے لئے قربانی دینا  سب سے بڑی غلطی نہیں ہے ؟

کوئٹہ میں یوم القدس مناتے ہوےهزاره قوم کے سینکڑوں جوانوں کا خون میں غوطه ور ہونے  سے صرف اور صرف ایران کوسیاسی فایده پہنچا. ایرانی میڈیہ نےهزاره قوم کی بربادی کومذهبی جوش وخروش اور جذبہ کا رنگ دیکر دنیا میں یوں پیش کیا که پاکستان میں شیعہ حضرات ایران کے لیڈر کی پیروی کرتے ہوے ان کے کہنے پر قربانی دینے کیلئے هر وقت تیار ہیں. بیشک اس جلوس میں هزاره برادری سے تعلق رکهنے والوں کی تعداد بہت کم تهی لیکن دنیا کو دکهانے کیلئے اور ان کے جلوس سے سیاسی فائده اٹهانے کیلئے یه تعداد بهی کافی تهی.

اثرات اور نقصانات

کوئته میں هزاره قوم کو اس دردناک حادثہ سے مندرجہ ذیل نقصانات هوے

هزاره برادری کو سخت نقصان ہونا

ظاهر ہے اس حادثہ سے سب سے زیاده دکھ اور نقصان هزاره قوم کو ہوا. هر گهر میں صف ماتم بچھ گئی – هر گلی سے ناله و شیون کی آوازسنائی دیتی ہے – شهیدوں کی لاشیں، زخمیوں کی پکار، رشته داروں کا رونا، یتیموں کے آنسو، بد نصیب بیوه خواتین کی آه و زاری اور بعض افراد کے طعنے.. قیامت کا منظر صاف نظر آتاہے.کوئٹہ کی تاریخ میں اس قسم کے حادثہ کی مثال نہیں ملتی. لهاذا هزاره برادری کے بہت سارے لوگوں کو اس خونین حادثہ کے بعد ذهنی عدم توازن کا شکار ہونے کا اندیشه ہے.

بعض لوگوں کا دین سے دور هونا

اس قیامت خیز منظر کو دیکهنا اور اس کی ذمه داری مذهبی جماعتوں پر لاگو ہونے کے بعد کئی لوگ دین اورمذهب سے بیزار هوکر اسلام اور معنویت سے دور ہوجاتے ہیں. کیونکہ انہوں نے مذهبی جلوسوں سے اپنی قوم کے جوانوں کی لاشیں اور خون میں غوطه ور زخمیوں کے سوا کچھ نہیں دیکها ہے۔

هزاره قوم سے سکیورٹی فورسز کا اعتبار اٹھ جانا

اس حادثه سے هزاره قوم کی امن پسندی امیج برباد ہوگئی – پورے پاکستان میں اور خاص طور پر کوئٹہ شهر میں هزاره قوم سب سے زیاده امن پسند، مہذب، ترقی یافته، ایماندار اور قانون نافذکرنے والوں کے ساتھ تعاون کرنے والی قوم تصور کی جاتی تهی لیکن اب سکیورٹی فورسز کا اعتبار هزاره قوم سے بهی اٹھ گیا.

مجهے امید ہے که هزاره قوم کے نوجواں ماضی کی غلطیوں سے درس لیکر آینده کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس کی وجہ سے ہماری قوم کو نقصان پہنچے بلکہ ان کو چاہئیں که  سب ملکراپنے درمیان سے بیرونی دشمن طاقتوں کو بهگاکر ایک دوسرے کا ہاتھ مظبوطی سے پکڑ کر هزاره قوم کی بیداری، بهلائی اور فلاح و بہبود کیلئے کام کریں


Responses

  1. salam to all ghairat mand hussaini hazara……. yaar ami time ago kas asta ki gap az ittehaad bizna……. e time siwaaye ittehad wa 1 jaai shudo dga hech chaara nadre….. wu adama ki mane qoum nifaaq pelaaw muna….. dga time khu khod khur numaayinde qoum migrin…. tokh kin ki az kaarai shum qoum ra faaida milaw musha ya nuqsan….. agar waaqaie khair khuwai qoum asten…khu nakin ami kaara ra……

    • togh kin brara agar ami qowm parasta k khod khoo amanat dar qowm migra eenha yago solution baraye amzi halat azra dara ya na agar daren khoo bayen pesh wa agar na daren bale dega hum ding ding nakkeen. ma yuk solution darom wa oo ye asta k mardoom azra agar az marg tars mookhran baaz yuk kara kana oo e asta k mazhub khoo ra ela kana, azoo aad da shomoo ech kar na daran. wa assalam

  2. salam. MA AZ EDITOR REQUEST MUNUM KI E WEBSITE RA BARA TAMAM AZAD BALO . MA CHAND DANA MASAGE TYPE KADOM LAKIN DELETE KADI , CHARA. AGER INSAF DARA WA JAWAB DARA KHU BUGI . MEHERBANI .

    • Dear Liaqat,
      All are free to comment, unless there are no ABUSIVE, and OFFENDING words. Extreme criticism in comments are published, but when it comes with harsh abusive language, its not allowed. People here abuse mothers, sisters and whatever comes out of their mouth, to any person, political party or others.

  3. Salam birarah ma imiqas mugum ki yak di gay kho ra muqasir ya gunnah gahr nagrin, iqas waqiyat shud baz ham mo yag degay khora qusoor war migri charra 12 police cadets ki shaheed shudd unji kho yam – ull quds kho na bud ki mo buggy ki ye az wajay mullah shud, bofamin ki molluh mollah tamam dorogh ha, innha doshman mo ya bas

  4. دوسروں کا غم کا کھانا اچھی اور قابل قدر عادت ہے ۔ لیکن اگر یہ جذبہ عمل پر منتہی نہ ہو اور اسکے ذریعہ دردمندوں کا درد کم نہ کیا جائے تو پھر اس غم خواری کا کوئی فائدہ نہیں۔ محض اچھے جذبات کس مرض کی دوا ہیں؟
    وہ احساسات جو ضمیر کے اندر پوشیدہ ہوں اور عملی زندگی میں جن کی تاثیر نظر نہ آئے، ایسے احساسات سے کیا استفادہ کیا جاسکتا ہے؟ میدان عمل میں محض حسن نیت ہی کافی نہیں بلکہ حسن نیت رکھنے کے ساتھ ساتھ عمل و اقدام بھی لازم ہے۔

  5. yara mo ra da dega Qomha kar nehasta , cara ke unja yak yumal qodus chi hasta , muharram , yum ali wagara ra namegra , lakin mo shia hasta , waqti ke TAQLID muni , ko bayad , aamal parya ham bashi , mo chra gofta namatani , agar TAQLID namuni masli ( suniya ) ko nagar ,

  6. Salam, Bhar Gaiyoor Qaum-e-Hazara Wa Salam Bhar Begunha Shaheedan-e-Hazara Qaum
    Ma Bilkul Ithafaq Monom Az Gabi Nisar Naiman Birar Kho Ki Shomo Bilkul Da Sayee Wa Da Bisyar Khoob Andaz Roshani Andaz Kadin Da Bale Azi Topic Aur E Zathi Fikar Az Khod Ma Asta Ki Bilkul Pasi Azi Waqia Disthi Hamsaya Mulk “IRAN” Asta Wa E “AKHONDA” Agent-e-IRAN Wa Agenti -e- Pakistani Intelligence Asta Wa Kirdari Azina Da Mine Qaum-e-Azra Sir Aur Sir Kirdari “DIMAK” Asta Wa Ina wO “DIMAK” Asta Ki Da Amzo “Darakth” Kane” Khane Khora Tayar Mona Wa Amo Darakth Ra Az Jarh Shi Daraw Khorda Rai Asta. Wa Ina Da Mine Qaum-e-Azra Al-Qaid-e-Disth Waz Asta Wa Qaum Azmo Ra Da Bare Mofadathi “IRAN” Wa Mofadathi Az Khod Kho Isthamal Kada Rai Asta Wa Kiradari Khod Goni Azina Da Mine Mashire Azo Qaum Misli “AAMASIA” Wari Asta, Wa Afsos Wago-e-Azi Monkira Maazor Na Shodak Mo Qaum Kirdari Azi Monkirai Wa Kahinai Qaum Ra Bayad Bishnasi
    Baqayai Shi Diga Waqt Likai Monom

  7. عزیزان گرامی ,ھمارے مدمقابل وحشی جانوروں کا ایسا ٹولہ لا کھڑا کیا گیا ھے جو ھم سے دھشت اور زبردستی کی زبان میں مخاطب ییں ، وہ سرے سے ھمارے وجود کو تسلیم کرنے کیلیے تیار ھی نہیں ییں ، وہ نابودی کی منطق بول رہے ییں ، اور ھمارے وجود کے مخالف ییں ، ھماری قوم سے متعلق ذرا انکے عزایم اور انکے حقارت امیز لب ولہجے کو مدنظر رکھے اور پھر اسکے مقابل اختیار کیے جانے والی سیاست اور اسٹراٹیجی پر غور کیجیے، کیا ایسے عزایم رکھنے والوں کے آگے گھٹنے ٹیکنا اور انکے پھیلایے ھوے خوف میں مبتلا ھوکر زندگی گذارنا درست سیاست اور اسٹرٹیجی ھوگی ؟ یا اسکے برعکس اب تک کی طرح انکی انکھوں میں انکھیں ڈال کر سربلند، ‍باعزت اور وقار کیساتھ اس شہر میں زندگی گذارنا ھی درست سیاست اور ھم سب کی ترجیج ھوگی ؟ یہ فیصلہ ھمیں اپنے آپ سے کرنا ھوگا۔

    ھمارے سامنے ایک بڑا سوال سر اٹھاے کھڑی ھے کہ کیا کویی قوم اپنی تاریخ ، عزت ، وقار ، آبرو اور ناموس کا دفاع پسپایی اور ذلت آور سیاست اختیار کرکے کرسکتی ھے اسکی سب سے بڑی مثال ذرا سرحد کے اس پار نظر ڈال کر دیکھیے ، ڈر اور خوف اور مصلحت کی منطق نے لوگوں کو کتنا ڈر پوک اور کوکھلا ، جبکہ دشمن کو کتنا جری اور گستاخ بنا دیا ھے کہ انکے گھروں میں گھس کر انھے مار کر چلے جاتے ییں اور اتنی تعداد میں ھونے کے باوجود وہ لوگ اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اکثریت نے خوفزدہ ھوکر اپنے آپ کو نفسیاتی طور پر شکست خوردہ اور کمزور قبول کرچکے ییں ، دس سال سے امریکہ ، ناٹو اور سعودی خبیث بادشاہ کے در پر سجدے بھی انکے کسی کام نہ آسکے ، لیکن انکے برعکس اتنے عرصے قتل و غارتگری کے سایے تلے اور اقلیت میں ھونے کے باوجود نفسیاتی طور پر مضبوط اور محکم رہ جانے والی پاکستان میں ھماری قوم اپنا دفاع نہایت شجاعت اور جوان مردی سے کررھی ھے کیونکہ انہوں نے تاریخ سے سبق لیتے ھوے اپنے اسلاف کیطرح مشکل حالات میں بھی عزت اور وقار کیساتھ زندگی گذارنے کو ترجیح دی ھے اور باوجود سخت حالات کے اپنی روزمرہ کی عادی زندگی گزار رھے ییں۔

    اتنے قتل و غارت گری اور وحشی پنے کے بعد ، ان خبیثوں کو شدت سے اس بات کی توقع تھی کہ یہ لوگ خوف میں مبتلا ھوجاینگے، ڈر جاینگے ،سہمے ھونگے ،لیکن امبارگاہ کلان کے واقعہ سے لیکر عاشورہ کے جلوس تک خود انکے حملہ آوروں کا ڈر کر خودکشی کرنا اور ھمارے جوانوں کی شجاعت اور غیرت کے سامنے انکا ڈھیر ھوجانا انکی ذلت کی نمایش ھے، خدا پر یقین رکھنے والے کبھی چھپ کر وار نہیں کرتے، اور سامنے آنے کا حوصلہ شاید قیامت تک اس قوم کے مقابل پیدا نہ ھوسکے،یہ قوم خوف جیسی حقیر چیز سے ناآشنا ھے ،موت پر لپک جانا انکی ماووں نے انکو دودھ میں پیلایا ھے ،غیرت اور شجاعت انکی رگوں میں پھیلا ھوا ھے، اس خصوصیات کے ساتھ اس قوم کو خوف میں مبتلا کرنے کا خیال یہ اپنے ساتھ جہنم میں تو لے جاسکتے ھیں لیکن انکے جیتے جی ایسی حالت زمانے میں ممکن نہیں ھوسکتی ییں
    گذشتہ جمعے کے یوم القدس کا جلوس خوف کی منطق شکنی کا نام ھے، اس دن کے شھیدوں نے اپنے لہو کی سرخی سے دشمن کے اس منطق کو نہایت حقارت سے مسترد کردیا ھے اور زندہ رہنے والوں کو یہ واضح پیغام دے دیا ھے کہ آگر اس صوبے اور شہر میں دوسری اقوام کے درمیان اپنی تاریخی عزت اور وقار کو محفوظ بناتے ھوے عزت اور وقار کی زندگی گذارنے کی روایت برقرار رکھنا پڑے تو سر اٹھا کر جیو اور اپنے کسی بھی حق سے پسپایی اختیار نہ کرو، یاد رکھو اس بات کی ھرگز اجازت نہ دینا کہ خوف کی منطق کو دشمن اپنے عمل سے اور ایجنسیوں کے پروردہ چند نادان مصلحت اور خوف کی سیاست کے نام پر تم لوگوں پر مسلط کرنے کی کوشش کرسکے ، اس بات سے ھرگز غافل نہیں ھونا ھے ، کہ اس شہر میں عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گذارنی ھیں ، میرے باشعور عزیزوں یہ بڑی سیاسی اور اسٹرٹیجک عبرت کا مقام ییں ، اور ھمارا اجتماعی تجربہ بھی یہ ثابت کرچکا ھے کہ ابتک کی باعزت زندگی ذلت کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ھے، اور اسی تجربے کی روشنی میں ھمیں اس بچگانہ منطق کا ھرگز شکار نہیں ھونا ھے کہ ” چرا جلوس بور کدن ؟ ایسی استدلال کرنے والوں سے پوچھنا چاییے کہ وہ جو دوکان میں کام کرتے یا دفتر جاتے یا پھر یوسفی شھید ! کیا سارے جلوس میں مارے گیے تھے ؟ ” دشمن کو بالادست کرنے والی یہ استدلال چاھے کسی بھی زبان سے ادا ھو انکے بہکاوے میں نہیں آنا چاھیے۔

    آخر میں اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجتا ھوں کہ گذشتہ کی طرح اب بھی ھمیں اس صوبے اور شہر اور یہاں پر بسنے والی ساری اقوام سے محبت اور انکے دکھ درد میں شریک رہتے ھوے ان سے باھمی اخوت اور برادر داری کے رشتوں کو برقرار رکھنا ھوگا اور اقوام و مذاییب کو آپس میں دست وگریبان کرنے کی دشمن کے چالوں کو ھم سب نے مشترکہ طور پر گذشتہ کی طرح ناکام بنانا ھوگا ، اختتام عزت اور سر بلندی سے جینے کا راستہ بتانے والے اس امام کے قول سے کرونگا ” کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ھے”۔

  8. Article ki shomo lika kaden khob informative asta. waqaee mo az histry khaber na dare or blindly chiza ra follow moni. Magar ma kad analysis shomo agree na monum ki mo mardom e Hazara ale azi hadsa Dil maida shoda az mazhab kho dor moshni. Tek a ki az waje yak chand na aqobat andesh nafara mo kad azi alamnak saniha roe da roe shodi magar matlab azi e nea ki mo az mazhab kho dor moshni. Qul e Imam Hussain A. S asta ki da her mosibat kho mara yad kanin. Har Jawan ra ki lash shi bal kadin Jawani Ali Akbar A. S ra yad kanin. or da akhir ma ami ra mogom ki da ewaz eqas jawana e sabaq barey mo bisyar giran tamam shod. Azi bad kad ago political/religious party sath dadan peshter AQAL kho istimal kanin emotions kho na.

  9. sallam ba qaum e hazara da quetta bisyar afsos shud dil ma girya muna ki sail kadom bacha ra jowana ra zad e haramiya az yag taraf qad bamb mizna az yag taraf qad G3 mizna az baraee khuda ainda ra ehtiat kin wo birara e gul thaa kai ra bizna mora na balay police force bawar kin na balay hakomat bacha e az khod bayad ki fikre shi basha balay jolos balay dista MOLA MADAD i love my hazara qom in quetta

  10. Salam,
    Dil ma kalo dard mona ki her dafa soch monum bilay azoo khanah ki jawan shin raft bachai raizay shin raft. chi da shoq o guna biladay eid khoo tairi kada bod minay az guna yak cousin ma am bod raiza.aur o gunai shin ki ale zakhmi asta.qasoor shin chiz bod.Alee amo mullahs ilaj az guna ra kana az jaeeb kho. bordo khoo bordeen bilady shaheed kadoo bilday mazoor kadoo.Khalis dil khoo ra tasali na deen ki mo shaheed daday.Ale bilday ilaj zakhmian paisay kho ra kherch keen dil kerch kadoo ra daraan?

  11. Salam,
    KHUDA biamurz shaheedai Ra KHUDA janat firdos naseeb kana.AMEEN
    Afsoos monum bilay hazara quam.ki az khod khoo aqal na dara. ki moo az dist khoo jawanai khoo ra aur bachai raizay khoo qatal moni.mo bajai ki o guna ra sun education shin ra maeel kani oo guna ra biladay taraqi quam tergheeb kani Mo o guna ra da qabristan jai shin jor ni ya pora zindagi mazoor moni.ogunai ki shaheed shod oo kho shod ale moo zakhamian kho chiz naam bidi.Soch keen ki mo chiz kar moni darao sahi ya ghalat.

  12. خوفزدہ گی ،پسپایی ،خانہ نشینی، اور بالاآخر دہ سر خانہ ھای شمو پیش شونہ، اینی برنامہ دشمن استہ، او قوم بیدار شونین،امروز سر جلوس صج سر جایی کار شمو دیگہ صبح سر جلوس جنازہ شمو، چیکار مونین بس جنازہ خورا ھم دفن کدو بند مونیین، سادگی نکین دشمن وجود شمو را از ای شہر میخاید پاک کنہ، مطابق خواست دشمن حرکت نکنین ، کد جلوس یا کد دوکاندار یا کد ایگو حرکت شمو مخالفت فقط بہانہ استہ دشمن وجود شمو را میخواید ختم کنہ،ھوشیار باشید ھوشیار

  13. ina lilahe wa ana alhe rajeoon.khoda tamam shahida ra jant naseeb kana.
    ma az australi astom wa ae khaber e attack ra shindum da amo lahzee shi beyar afsos munuim.afsos aze ki mo mardom e hazara chara e qaz nadan astee. ki chandin hadsaiee ki qad azmo azee pash ronama shoda chara azo mo sabaq na migree?
    chara baraiee seyasi mufad iran wa dega mo jawane kho qurban muni?
    hazara qoum bedar shin ta kaie ra e zulm bali azmo shona ta kaiee mo ra dega istimal kana waqat amada ki mu azminee kho agant iran ra gum kani wa yag leader muntakhib kani ki faqat baree haqiee hazaragi mu jang kana na ki baraiee mudfadi dega.

    .

    • salam birar yek adam bisyaar khub gab zada , wa mantiqi ham asta , ki aya thamam azu kasai ki shaheed shudan ta ba haali , da maney juloos shaheed shudan ???????? na birar farz ku e juloos bayed bur na mushud , thu juloos ashura ra che kar muni ager shia wa muslim astey khu mugi raas mugi , lekin ager khuda nakhasta az deen wa mazhab khu juda shudey khu asthu ej gila niya , birar e waqt e azi gaba niya ki agent iran ra bur kani , amuna ki ami gaba ra mizna mekhaya maney mardum hazara jang shuna , diga da nazar shumo ena methana khair khah e qoom basha ????? kam fikr kanu

      • مه از تمام دوستاو قومای خوب و باشعور خو تشکر مونوم که ده باره آرٹیکل از مه اظهار خیال کدند ولی فکر کنوم که غلط فهمی شده باشد چرا که مطلب ازمه ای نبوده که خلاف تمام مذهبی جلوس و خصوصاً جلوس عاشورا گب گفته شونه بلکه اموطر که داکتر رقیه، باجی رخسانه، علامه اسید و خالق هزار و قیوم چنگیزی ده میچد ٹی وی گفتند که هیچ کس خلاف جلوس عاشورا نیه ، مه هم ده باره جلوس عاشورا حق ندروم که چیز بوگیوم لیکن مطلب ازمه ای استه که ده جلوس ها و جلسه ها مو نباید فوٹو و بینرز دیگرو را بال کنی و ده جائیکه فایده شی ده دیگرو میرسه و بلدے از مو خطر جانی دره و حتی ده مو هیچ ربط ندره ، نباید شرکت کنی ، ولی ده مساله مقابله قد دشمونو و بورکدو جلوس عاشورا تمام قوم متحد مالوم موشه. خدا کنه که ده مقام عمل هم قوم ها امیتر متحد باشه. تشکر.

    • wo birar ma az awal agar eqas dard dare chara tu rafta jang namoni da quetta ki az taras farar kada da australia rafte?… tamam jawana e hazara az quetta bor shoda tarafe bar molka rafta.. yali zana bora jang kana qom ra sanbal kana…
      ma chand dana shinakhtayom shaheed shoda magar afsoos nadarom chara ki ajal ki amad da har jai maya. wa khuda ki moth ra qarar dad wora kas hum rok nametana..
      era ech kas qasoor war shi niya( na iran, na mullah wa na khod e hazara) qassoor war sirf wa sirf government astha ki e khodkush ra stop namona tamam shi az pasi khone shia wa hazara tushna astha.

      mo har kar kani e chiz ra rok nametani agar government qad mo sath nada.

      • GOVENEMENT QAD TO SAT MIDYA AGAR TO HAM HAMKARI KANI KI BARAI FAIDE TO GOFT GOSH KANI ( MISALI KI GOFTA BOD KI MIZAN CHAWK NARIN CHARA E KASA LESA JALOS RA BORD).

      • salam barar jan ghabiee ko belkol saahi hasta , mo bayad mana ko Etafaq dashta bashi , yara inji (Quetta) mana az mo besyar shaytanha zeyad hasta waqti yago hadsa musha ko , bad az hadsa una besyar galat va na jaiez kosis mona kae fayada bala kana , or az va ja azgena mo besyar zeyad noqsan mo moshina , KHODA KODHSHI BALA MO RAHAM KANA ;


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Categories

%d bloggers like this: