Posted by: Editor | October 31, 2010

آج میرا دل خون کے آنسو رو رھا ھے

By Naseem Javed

آج میرا دل خون کے آنسو رو رھا ھے

ابھی تھوڑی دیر پھلے علمدار روڈ سے چار جنازے اُٹھے۔

کل شام کو مسجد روڈ کے  تاجر علی اکبر کو اس کے جوانسال بیٹے اور ان کے دوستوں (کاریگر اور باڈی گارڈ) کے ساتھ ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا گیا۔

جونہی یہ خبر شھر میں پھیل گئی آسمان پر گردو غبار کے ساتھ بادل چھا گئے اور ھلکی ھلکی خاک آلود بوندھوں کے ساتھ آسمان رونے لگا۔

راب بھر گرج چمک ھوتی رھی جیسے آسمان دھاڑے مار مار کر

شہیدوں کے پسماندگان کے ساتھ رو رھا ھو۔

کوئیٹہ شہر کے امن کا پرندہ زخمی، دلگیر اور سر بہ غمزہ اپنا لہو چاٹتا رھا۔

خونخوار درندوں اور بے غیرت قاتلوں نے شھر میں پھر معصوم اور بیگناہ انسانوں کے خون سے ھولی کھیلی۔

ماؤں اور بہنوں کے گریہ و ماتم نے غم زینب کو تازہ کر دیا۔

شمر و یزید کی فطرت پانے والے اب بھی معصوم اور پر امن لوگوں کی گردنیں کاٹ کر اقتدار کی پرستش کرنے والوں کی اقتدار کو چند دن اور دوام دے رھے ھیں۔

کوئیٹہ شہر کی مائیں بڑے ناز و نعم سے اپنے بچوں کو پال پوس کر جوان کرتیں ھیں تاکہ وہ ان جاھل غنڈوں کی گولیاں اپنے سینے میں اتارے اور زمین کو لہو کی بھینٹ دے کر امن کے بیج کی آبیاری کرے۔

ایسے میں جب مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں عزیزوں کی لاش پر ماتم کرتیں ھیں تو آسمان مٹی کی چادر اوڑھ لیتا ھے اور سارا شہر سوگوار ھو جاتا ھے۔

آج میرا دل خون کے آنسو رو رھا ھے۔ ایسے میں انتقام کی سلگتی ھوئی بے بس چنگاری میرے دل میں شعلہ ور ھورھی ھے کاش میں قانون ھوتا اور ان قاتلوں کی گردنیں میرے شکنجے میں ھوتی

کاش میں عدالت ھوتا اور ان بدمعاشوں کی موت کے پروانے پر دستخط کرکے قلم توڑ دیتا

کاش میں وزیر ھوتا یا وزیر اعلٰی اور غیرت سے خودکشی کر لیتا۔

مگر میں کچھ بھی نہیں کرسکتا

شہیدوں کے بیکس و لاچار پسماندگان کے ساتھ آنسو بھی نہیں بہا سکتا

شاید مجھے ان تلخ آنسوؤں کو بہانے میں نہیں بلکہ انہیں پینے سے صبر ملتا ھے

شاید مجھے امید کا ٹمٹاتا ھوا دیا عزیز ھے اور تاریکی کے ختم ھونے اور سحر کا یقین ھے۔

شاید نیا سورج انصاف و عدالت لے کر طلوع ھونے کو ھے اور اس سے پھلے جھالت کی تاریکی اپنی پوری زور لگا رھی ھے۔ یقینا” عدل و انصاف کا دن نکلنے والا ھے جسکی روشنی میں ھم قانون کی بالادستی کا نظارہ دیکھ سکیں گے اور ان درندے قاتلوں کی ناپاک لاشیں عبرت کے لئے شہر کے چوکوں پر آویزاں ھوں گے جو اس ملک میں قانون اور عدالت کو اپنے جوتوں کی نوک پر رکھتے ھیں اور کامیاب وارداتیں کرتے ھیں

یقینا” اندھے قانون کو بینائی ملے گی اور وہ رشوت کی پیپ اور قے کو شہد سمجھ کر نہیں پئیں گے اور اندر کی گندگی کو جو ناسور بن چکا ھے کاٹ کر پھینک دیں گے۔

یقینا” ھماری عدالت حوض انسانیت سے شراب غیرت کا گھونٹ پئیں گی اور ان کے قلوب سے قاتلوں، درندوں اور بدمعاشوں کا خوف نکل جائے گا اور اس کی جگہ انصاف کا نور لے گا۔ جی ھاں انصاف کا نور۔ اور پھر وہ اس قابل ھو جائیں گے کہ قاتلوں کی آنکھوں میں آنکھٰیں ڈال کر انہیں ملامت کر سکیں گے

کیا یہ سب کچھ ممکن ھے

کہیں ایسا تو نہیں ھوگا کہ حالات مزید خراب تر ھو تے جائیں گے، عدالتی نظام کو چلانے والے یونہی خوفزدہ رہیں گے، قتل و غارتگری پر اپنی آنکھیں بند کیئے خاموشی کے ساتھ بیوی بچوں کی پرستش کرتے رھیں گے!!! کیا شہیدوں کے پسماندگان کا گریہ و ماتم حکمرانوں کے ضمیر کو جگانے میں ناکام رھیں گے

کیا شہیدوں کا لہو کبھی رنگ نہیں لائے گا۔

کیا ھمارے معاشرے میں ان شہیدوں کے خون کی پکار کو امن کے فاختے میں سمونے والے سب روشن خیال لوگ ختم ھوگئے ھیں اور غنڈوں نے اس شہر اور ملک کے تمام وزیروں، وزیر اعلاؤں، آئی جی، خفیہ تنظیموں، چیف جسٹسوں اور حتا کہ وزیر اعظم اور صدر کو ھینڈز اپ کر چکے ھیں اور ھم سب ان کے نرغے میں آگئے ھیں

کیا ھر ٹارگٹ کلنگ کے بعد ھمیشہ کی طرح نامعلوم قاتلوں کے خلاف پرچہ کاٹ دیا جائے گا اور مٹی چاٹتی سرکاری فائیلوں کے اوپر ایک اور فائل کا اضافہ ھو جائے گا۔ کوئی تفتیش، کوئی انصاف نہیں ملے گاآج مجھے یوں محسوس ھو رھا ھے جیسے کوئی عدالت نہیں کوئی قانون نہیں۔

جیسے ھم کسی ایسی جنگل میں جی رھے ھیں جھاں پر درندوں کا راج ھے حکومت میں جو انسان نما لوگ نظر آرھے ھیں وہ صرف اقتدار کی باتیں کرتے ھیں، پیسے بٹورنے، جیت کی خوشی منانے اور ھار سے بچنے کی منصوبہ بندی اور بس۔

شہر میں ھر طرف خونخوار ڈریکولا آزادانہ پھر رھے ھیں جس کے منہ کو انسانوں کا خون لگ چکا ھے اور وہ صرف معصوم انسانوں کے گرم لہو سے اپنی تشنگی بجھا لیتے ھیں اور دوسری طرف حکومت جمھوریت کا راگ الآپ رھی ھے

عدلیہ انصاف کا سُر لگا رھا ھے۔

منصب داروں نے بے حس بھگوان کا روپ دھار لیا ھے جو آئے دن اپنے ماتھے پر انسانی خون سے تلک لگارھے ھیں تاکہ ان کی کرسی اور اقتدار کو کسی کی نظر نہ لگ جائے

یقینا” یہ تلک جلدی مٹنے والا ھے، سحر نزدیک ھے

حقیقی جمہوریت کا سورج طلوع ھونے والا ھے

شہیدوں کا خون رنگ لانے والا ھے

تب ھم دیکھیں گے جب یہاں کے عوام لرزہ براندام خادم نہیں رھیں گے اور پیری مریدی کا جاھلانہ رسم ختم ھو جائےگا اور عوام مزید خادم اور مرید نہیں بلکہ انسان کہلائے گا اور یہ کرپٹ اور بدنام سیاست دان اور سیاسی پارٹیوں کے جدی پشتی گدی نشین چیئر مین بن کر آقائی نہیں کریں گے بلکہ حکومت اپنے پارلیمنٹ اور تمام اعلی عہدوں کے ساتھ عوام کے سامنے جوابدہ ھوں گے

اعلٰی عہدے اور با صلاحیت عہدیدار عوام کی خدمت کو فرض کے طور پر نبھائیں گے

آج میرا دل خون کے آنسو رو رھا ھے

دوپہر کو ھزارہ قبرستان میں چار جنازوں کو دفنانے کے بعد جب لوگ واپس نچاری امام بارگاہ کیلئے روانہ ھوئے تو پھر سے بادل چھا گئے اور آسمان خوب رویا اور کوئیٹہ شہر کو آنسوؤں سے نہلا دیا۔

بچے، معصوم بچے سیاسی فضاء کی غلیظ آلودگی اور شہر کے درندوں اور قاتلوں کے خون خرابے سے بے خبر نئے موسم کی پہلی بارش میں کھیلتے رھے اور ان کے شاداب چہروں پر بارش کی کھلکھلاتی بوندھیں گلیوں اور محلوں میں خوشیاں مناتی رھیں۔ آج زندگی میں پہلی بار میرے اندر کا معصوم بچہ بارش میں کھیلنے کے لئے مچلتا رھا مگر نجانے کیوں میں اس کا ساتھ نہ دے سکا بلکہ آسمان کے ساتھ روتا رھا۔

 


Responses

  1. imroz ena mo ra az dokan mo bor muna… Soba mo ra az khanay mo bor muna.kuja jai darey mo hazara mardom?chara eter musha kad azmo?chi waja asta ki kadd azmo hazara he amiter musha?bus asta bayin yek shunin,diga ago mader biley janazay jawan bachey kho girya na kana,diga ago zan bewa na shuna,diga ago masoom bacha yateem na shuna…plz qauma baydar shunin e waqt asta ki tamam mo yek shuni.werna eter na shuna ki ami doshman mo naam wa nishan mo khatam kana .

    • khuwar jan salam. EI kambakhat ghulam qaum da 400 sal dahush namad aali dahush maya ? tarikh gawah ye ki ei ghulam qaum az 250 saal balde chand roz tahafooze jan wa aishparesti khu da her mulki dunya begana shuda rai ye zaminau dunyaeshi dega qaum qabza kada raiya aor aali ham ami game chalida raiya chara ki unara maloom asta ki ei qaum ra kem mural shi down ku ina khudshi jaidad khu eshta duta mona tamam halat khude shumo mingernin ……………….itihad wa itfaq ra khuda biyamurza ………………..IQBAL (Rahmattullahalaiha)balde azi ghulam qaum yak shair arz kada …………khub da tawaju ….. ………………………………..Lykin muje us qaum mai paida kiya tone…….Jis qaum ke bande hai ghulami pe razamand……..Waasallam………….faqet yek aatish fashan birar shum….MANGUL

    • na mo mardum gai baydar na mushni ami ra souch kanin ki yak dafa mo jawab azi na ra ki dadi bus ee bad mazhaba khod shi tarz mukhra amuter am kho mo shaheed mushni darw bia ki ami na ra am murdar kada shaheed suni

      • any one has the pics of this shudas …………………..bcz there r no pics on net

  2. aghar aaj hum na krachi ka mahajeren ke tarah apna defa nahe kiya tho wo din dor nahe jab hamara name be na rahaga.

  3. Qaum Ghairaat ki 20-25 Saal Paish Dasht yak Azra. Kuja shud.

    Agency Na bood .

    Barai Paisa Mukhbiree na mukaad.

    Quam kho ra Dost Dasht.

    Quam kho Lailai Mugoft Baghaal Mukaat

    Shair wa Nawisenday kho ra Tashweeq mukaad.

    Hunar man kho ra Qaadaar Dani mukaad.

    Kuja shood O Azra. ?

    Dil-e-Musafeer kho awal Paara paara wa poor daard asta. Qaum wa target killing kho Dilhai
    Musafeer ra Tika para kada.

    Az beemi Baala kada da Dani Baal bashi khub asta.

    Az Harroz khoshtoo khub asta ki yak rooz Ba Ghairaat wa Ba Ezath bumree.

    Khuda Madad

  4. Strange! Where is your governing rules? Where is security? Is it so easy to kill humans in Pakistan? No one is put to jails??? I can also kill and live peaceful luxury life so!!!! I have many Bosnian and Serbistani friends. They love to kill. Sending them to to Paki land for some human hunt:))))) No lawas and governement in Pakistan any ways!!!!
    Killing birds or humans is same in ISLAMIC REPUBLIC OF PAKISTAN!!!!!! PAKISTAN must learn the meaning of it’s persian NAME!!!!!! Days are over!!!! Commit it! YOU CANNOT RULE! FAILED….. HOW MANY MORE INNOCENT HAZARAS WILL BE KILLED???? CAN YOU PROVIDE SPACE FOR GREATER HAZARA GRAVEYARD IN PAKISTAN LAND???? I think Hazara graves will be bulldozed in future in both Pakistan and Afghanistan! Do you promise to do so or help? Tell it like MEN! No Grace left ????? SORRY for what you had and you LOST it!!!!!

  5. Kaash main wazeer hotha or SHARAM* say khood koshi kar laitha.

    Magar afsoos sud afsoos kay hum koch bhi nahi or koch bhi nahi kar sakthay.

    Naseem Sahab you are lucky that atleast you can express your feelings with words, almiya ya hain kay hum tho wo bhi nahi kar sakthay………

    Sahi kaha aap nay, HUM KOOCH BHI THO NAHI KAR SAKTHAY!

    May GOD bless all.
    ameen.


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Categories

%d bloggers like this: